Main Menu

گلگت: قراقرم نیشنل موومنٹ کے زیر اہتمام آج ہونے والی کانفرنس کو پاکستان نے روک دیا

Spread the love

پاکستان بھی ہندوستانی پاليسی پر گامزن ہے، گلگت بلتستان اور نام نہاد آزادکشمير کے عوام کے اکٹھا ہونے سے پاکستان خوفزدہ ہے، آزادی راۓ کے اظہار پر قدغنيں نئ تحريک جنم دے گی، عمر حيات

پونچھ ٹائمز ويب ڈيسک

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمير کے صوبہ گلگت ميں قراقرم نیشنل موومنٹ کے زیر اہتمام آج ہونے والی کانفرنس کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے روک دیا ہے اس کانفرنس میں گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں کشمیر کے سیاسی رہنماوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ جموں کشمير لبريشن فرنٹ (صغير) کے مرکزی ترجمان عمر حيات کی جانب سے جاری تفصيلات کے مطابق گزشتہ رات کو جس ہوٹل میں کانفرنس کے انتظامات کئے گئے تھے اس کو سیل کر دیا گیا تھاجس کی وجہ سے ہوٹل انتظامیہ نے منتظمین اور مہمانوں سے ہوٹل چھوڑنے کا کہہ دیا تھا جبکہ قراقرم نیشنل موومنٹ کی قیادت نے کانفرنس کا انعقاد گلگت پریس کلب میں کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔

انہوں نے بتايا کہ آج صبح گلگت پریس کلب کو بھی سیل کر دیا گیا ہے اور لوگوں کو پریس کلب سے زبردستی باہر نکال دیا ہے جس پر منتظمین اور مہمان پریس کلب کے باہر جمع ہیں۔ انہوں نے کہ کہا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ غاصب پاکستان کے خفیہ اداروں کی اس کاروائی کی شدید مذمت کرتی ہے اور اس اقدام کو آذادی اظہارائے کے حق کی شدید خلاف ورزی سمجھتی ہے۔ عمر حيات کا کہنا تھا کہ اس طرح کا گھناونا اقدام انتہائی قابل مذمت اور قابل نفرت ہے غاصب قوتیں ہمیشہ اپنا غاصبانہ قبضہ قائم رکھنے کے لئے عوامی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں لیکن اس طرح کے اقدامات سے جابر اور غاصب قوتوں کے خلاف عوام کے دلوں میں نفرت ہی پیدا ہوتی ہے اور تحریکوں کو نئی جہت ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی جب کبھی بھی گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے اس حصے کے عوام میں جڑت کی کوئی کوشش ہوئی ہے تو ان قوتوں نے ان دونوں خطوں کے عوام کو مل کر اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کے جرم میں کبھی علاقہ بدر کیا اور کبھی لوگوں کو گرفتار کر کے پس دیوار زنداں کرنےکی کوشش کی ہے۔ آج جب ایک طرف ہندوستان ریاست پر قبضے کو مستقل شکل دینے کی کوشش کررہا ہے اور دوسری طرف پاکستان نے بھی وہی پالیسی اپنا رکھی ہے اور پاکستان بھی گلگت بلتستان اور اپنے زیر انتظام کشمیر کو اپنے ملک میں شامل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ اس موقع پر ریاست جموں کے تمام خطوں کے عوام کو آپس میں جڑت پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان غاصب ملکوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو منظم کر کے اپنی آذادی کی جنگ کو فیصلہ کن انداز میں لڑا جا سکے۔






Related News

یا سین ملک کا مقدمہ اورعالمی عدالت انصاف ۔ بیرسٹر حمید باشانی

Spread the loveآج کل یاسین ملک کا مقدمہ عدالت انصاف میں لے جانے کے باتیںRead More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *