Main Menu

رياستی بربريت يا بے بسی؟ سانحہ کوہستان کے شہداء 9 سال گزرنے کے بعد بھی انصاف سے محروم

Spread the love

پونچھ ٹائمز رپورٹ

پرسوں 28 فروری 2021 تھا اور 28 فروری 2012 کو يعنی آج سے 9 سال پہلے گلگت بلتستان کی شاہراہ قراقرم پر 3 بچوں سميت 18 شیعہ مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد بہیمانہ انداز میں ہاتھ پیر باندھ کر شہید کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کی تفصیلات کچھ يوں ہيں کہ راولپنڈی سے گلگت بلتستان ايک ساتھ جانے والی 4 بسوں کو کوہستان کے سُنی اکثريتی علاقے ہربن داس کے مقام پر ہر بن نالے کے قريب سکیورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس 12 مسلح دہشتگردوں نے روک لیا تھا اور تمام مسافروں کو بسوں سے اتار کر ان کے شناختی کارڈ دیکھے گئے تھے ۔

شناختی کارڈ پر درج نام سے شیعہ ثابت ہونے والے مسافروں کے ہاتھ پیر باندھ کر گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا تھا۔ جبکہ بس ميں موجود ديگر 27 افراد کو اہلِ تشيع نہ سمجھ کر زندہ چھوڑ ديا گيا تھا۔ اس واقعہ کے خلاف ہفتوں گلگت بلتستان سميت پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی سلسلہ جاری رہا اور دہشتگردوں کی گرفتاری کے مطالبات ہوتے رہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی صوبائی اور وفاقی حکومت سمیت سکیورٹی ادارے دہشتگردوں کا تعاقب کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے اور ان کے بعد آنے والی حکومت بھی اس ضمن ميں کوئ کردار ادا نہ کر سکی۔

سانحہ کوہستان تھا کيا؟

ہربن اور کوہستان پوليس نے ميڈيا کو اس واقعے کی تفصيل بتاتے ہوۓ بتايا تھا کہ چار بسوں ميں 117 لوگ سوار تھے اور دہشتگرد سڑک کے دونوں اطراف گھات لگاۓ بيٹھے تھے اور بسوں کو روک کر بسوں ميں داخل ہوۓ اور مسافروں سے شناختی کارڈ چيک کروانے کا کہا۔ شناختی پر درج نام سے جو لوگ اہل تشيع ثابت ہوۓ اُنہيں بسوں سے نکال کر لائن ميں کھڑا کيا گيا اور پھر اُنہيں گولی مار دی گئ۔ اطلاعات يہ بھی تھيں کہ شہيد کئے جانے والوں ميں سے ايک شخص نثار احمد جو کہ بس کنڈيکٹر تھا اہل تشيع مسلک سے تعلق نہيں رکھتا تھا۔
اس واقعے کے بعد گلگت ميں دفعہ 144 نافذ کر ديا گيا تھا مگر پھر بھی اس واقعے کے ری ايکشن ميں انتقامی کاروائيوں کے نتيجہ ميں ايک مزيد شخص ہلاک اور دو افراد زخمی ہو گۓ تھے۔

اس واقعے کی ذمہ داری جُندُاللہ نامی ايک کالعدم جماعت نے قبول کی تھی اور جنداللہ کے ايک احمد مروت نامی کمانڈر نے ميڈيا کو اس واقع کے بارے ميں بتاتے ہوۓ ذمہ داری قبول کی تھی۔ مگر اس جماعت کا کوئ بھی شخص اس جُرم ميں تاحال گرفتار نہيں ہو سکا اور نہ ہی کسی پہ فردِ جُرم عائد ہو پائ۔

دہشتگردی کا رياستی تعلق

پاکستان ميں فرقہ واريت کوئ نئ بات نہيں اور اس طرح کے اکثر واقعات کا تعلق رياستی اداروں کے ساتھ ہی جوڑا جا رہا ہے۔ سن 1988 ميں جب پاکستان نے کشمير کے مسئلے کو سامنے رکھتے ہوۓ ہندوستان کے خلاف باقاعدہ جہادی کاروائيوں کا آغاز کيا تھا تو اُس وقت بھی گلگت بلتستان ميں شیعہ سُنی فسادات کے نتيجے ميں بے حساب خون بہايا گيا تھا۔ چونکہ گلگت بلتستان جو کہ رياست جموں کشمير کی اکائ ہے کو 1947 سے ہی رياست جموں کشمير کے ديگر پاکستانی زير انتظام علاقوں سے بالکل الگ رکھا گيا ہے اور آزادکشمير کے ساتھ گلگت بلتستان کے ملنے والے تمام زمينی راستے بند کر ديے گۓ تھے جو کہ تاحال بند ہيں۔ رياست کے لوگوں کو ايک دوسرے سے الگ رکھنا ، فرقہ واريت ، لوگوں ميں نفرت و تقسيم کی اس ساری صورتحال کے پيش نظر اکثر لوگ يہی کہتے ہيں کہ يہ حالت پاکستانی رياست کے پيدا کردہ ہيں اور پاکستانی رياست فرقہ واريت کے ان حالات سے فائدہ اٹھاتی ہے۔

فرقہ واريت اور اقليتوں کو درپيش خطرات بارے عالمی سطح پر بھی بارہا پاکستانی رياست کے کردار پہ شکوک و شُہبات کا اظہار کيا گيا ہے۔ حال ہی بلوچستان ميں ذبح کئے جانے والے ہزاری برادری کے شہدا کا خون بھی پاکستانی رياست کے ہی دامن پر سمجھا جا رہا ہے اور ہزارہ برادری سياسی مقاصد کے لئے کشت و خون کہہ رہے ہيں۔

کالعدم جماتيں رياست سے طاقتور ہيں؟

اکثر لوگ يہ سوال کرتے ہيں کہ کالعدم جماعتيں پاکستانی رياست سے طاقتور ہيں يا کيا ہے رياست ان پر ہاتھ کيوں نہيں ڈالتی۔ جُنداللہ کا تعلق تو ايران سے بتايا جا رہا ہے جو کہ ايرانی سُنی مسلمانوں کی جماعت ہے۔ لشکر طيبہ، حزب المجاہدين، البدر، لشکر جھنگوی، جيش محمد، حرکت المجاہدين سميت اور بہت ساری تنظيموں کی طرح جنداللہ بھی پاکستان ميں کالعدم ہے مگر ہم ديکھتے ہيں کہ يہ جماعتيں حکومتی ساۓ ميں ہی پلتی ہيں۔ کاغذی طور پر کالعدم جماعتوں کا اگر تجزيہ کيا جاۓ تو اُن جماعتوں کی بنياد رکھنے والی پاکستانی رياست ہی نظر آتی ہے جو ان جماعتوں کو اپنی مفادات کے لئے بوقتِ ضرورت استعمال ميں لاتی ہے۔ اُسکی مثال پاکستانی زير انتظام جموں کشمير کے علاقے جسے آزادکشمير کہتے ہيں ميں بڑی واضع ہے جہاں ان ساری کالعدم جماعتوں کا پاکستانی رياست کے زير انتظام تاحال ايک اتحاد بنايا گيا ہے جسے “متحدہ جہاد کونسل” کا نام ديا گيا ہے۔ برحل ان سارے ثبوتوں کے ساتھ يہ کہنا بالکل آسان ہے کہ پاکستانی رياست کالعدم تنظيموں کے زريعے اپنا اُلو سيدھا کرتی ہے اور مرنے والے غريب لوگ دہائياں ديتے اور سينا کُوبی کرتے ہوۓ ہی رہ جاتے ہيں۔

جس رياست ميں قاتل ہر چوک چوراہے پر موجود ہو مگر قانون کے کالے پٹے سے کبھی نظر نہ آۓ وہاں سانحہ کوہستان کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے اور گرنے والے ہر خون کا داغ رياستی گريباں ہر ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ رياستی کردار کو سامنے رکھتے ہوۓ عوامی پرتوں کے باشعور انسانوں کو کردار ادا کرنا پڑے گا وگرنہ بنيادی ضروريات زندگی تو دور کی بات زندگی کے لالے اسی طرح پڑے رہيں گے۔






Related News

یا سین ملک کا مقدمہ اورعالمی عدالت انصاف ۔ بیرسٹر حمید باشانی

Spread the loveآج کل یاسین ملک کا مقدمہ عدالت انصاف میں لے جانے کے باتیںRead More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *