Main Menu

جلائے گئے خیمے کے مکیں : حبیب رحمان

Spread the love


ایک تصویر سوشل میڈ یا پر نظر سے گزری اور اس پر تبصرے پڑھنے کو ملے کس ڈھٹھائی سے مرنے والے کی مدا سرائی کی جا رہی تھی۔ حیران کن بات یہ تھی کہ اس قافلے کے سپہ سلار کو اس کی زندگی میں کس دشنام سے نہیں گزرنا پڑا کس کس طرح کی کردار کشی نہیں کی گئی ۔ جب اس خیمے کو چاروں طرف سے اگ لگائی جا رہی تھی۔ اگ لگانے والوں میں اس قافلے کے صف اول کے وہ سپاہی بھی شامل تھے جن کو اس چاک گریبان شخص نے اپنے لہو سے سینچا تھا ۔ وہ شخص بہت چیخا کہ یہ خیمہ نہیں یہ تمہارا مستقبل ہے اپنا مستقبل نہ جلاو ۔ لیکن حملہ اوروں نے کب اس کا احساس کرنا تھا۔ سو انھوں نے اس خیمے کو اگ لگا دی خیمہ جلا دیا گیا پھر بڑی دھوم سے فتح مند ہونے کی منا دی کر دی گئی۔ لیکن وہ شخص بے دست و پا ہونے کے باوجود اس جلے ہوئے خیمے میں بیٹھ گیا جلے ہوئے ٹکرے جوڑنے میں لگ گیا ۔خیمہ جلانے والے گو کہ بہت شادماں تھے لیکن یہ لٹا ہواشخص نہ تو گبھرایا نہ ہی مایوس ہوا کرچیا کرچیا چن کر ایک نا مکمل کمزور سا خیمہ پھر تعمیر کر گیا ۔
حوصلے اور امیدیں شعور اور فکر کو مرنے نہیں دیتی کیونکہ اس لٹے پٹے خیمے سے دریوزہ گروں کی انکار کی اواز بند نہیں ہوئی۔ انکار کی اواز ارہی ہے اس کا مظلب یہ ہے کہ شعور اور فکر نے ہار نہیں مانی۔

تاریخی تصویر۔ 10اپریل 1985 کو میرپور میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے پہلے تاسیسی کنونشن کے موقعہ پر بیرسٹر قربان علی۔ فرید خان ایڈووکیٹ۔ سردار انور خان ایڈووکیٹ۔ محمد صدیق چوہدری ایڈووکیٹ۔ شوکت علی کشمیری۔ سردار انور۔ افتخار احمد راجہ ایڈووکیٹ۔ ارشد محمود چوہدری ایڈووکیٹ۔ بیرسٹر حمید بھاشانی۔ سجاد راجہ۔ طاہر آمین۔ سہیل انصاری ایڈووکیٹ۔ کا گروپ فوٹو)





Related News

ل24 اکتوبر حکومت کا قیام سعید اقبال

Spread the love پاکستان نے اپنے قیام کے ساتھ ہی ریاست جموں کشمیر پر قبضہRead More

The Untold Story of failed diplomacy in Kashmir. Hashir Majid

Spread the loveAll Respected Guest My Name is Hashir Majid I am a grade 11Read More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *