Main Menu

تضاد کی نٸی شکلیں اور عوامی تحریک۔ تحریر۔۔۔۔الیاس

Spread the love

یہ کوٸی ایسا عمل نہیں ہے جس پر حیرت کا اظہار کیا جاۓ۔عوامی تحریک ایسے مراحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں کٹھ پتلی ریاست کی انتظامی کمزوریاں اور عوام کی طاقت کھل کر سامنے آٸی ہے۔
عوامی تحریک پر ریاست کے حملے نے ریاست کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کیا ہے۔
محکوم سماجوں میں جب قابض قوت کے گماشتہ حکمران طبقے کو عوام شکست دینے کے لیے آگے بڑھتے ہیں اور سہولت کار اور گماشتہ حکمران عوام کی اس پیش رفت کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کرتے ہیں جس میں بے بسی ان سہولت کاروں اور قابض قوتوں کو اس قدر لاچار کر دیتی ہے کہ عوامی تحریک اور پیش رفت کو ثبوتاژ کرنے کے لیے قابض ریاست کی بندوق بردار طاقتیں مقبوضہ عوام کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔
یہی وہ معروضی صورت حال ہوتی ہے جب محکوم عوام کا تضاد سہولت کاروں کے ساتھ ساتھ قابض کے خلاف بھی گہرا ہوتا ہے۔جب مقامی لیکن بیرونی قوتوں کا سہولت کار اور گماشتہ حکمران طبقہ اپنے شہریوں پر جبر اور تشدد کے لیے بیرونی طاقتوں کو دعوت دیتا ہے تو پھر عوامی لڑاٸی
چو مکھی ہو جاتی ہے۔اس چو مکھی لڑاٸی کو لڑنے کے لیے تحریکی فکر عمل اور پروگرام کو زیادہ ایڈوانس کرنا لازم ہو جاتا ہے۔مزید براں ریاست اور قابض کی پالیسیوں اور حکمت عملی کو مات دینے کے لیے تحریک کی حکمت عملی

زیادہ ٹھوس اور جاندار بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
عوامی تحریک کی اب تک کی حکمتِ عملی بر وقت اور درست ثابت ہوٸی ہے جس کی وجہ سے ریاست کو قابض ریاست سے فورس منگوانے کی ضرورت درپیش آٸی ہے۔لیکن قابض کے لیے موجودہ صورتحال 1947 یا 1952 والی نہیں ہو گی بہت زیادہ مختلف بھی ہو گی اور قابض کے لیے حیرت انگیز بھی ہو گی۔
پس یہ ضروری ہے کہ ریاست جو چاہتی ہے اسے ریاست کے لیے مشکل اور نا ممکن بنانے کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔
01.بیرونی فورس منگوانے کے باوجود ریاست کو گرفتاریاں نہ دی جاٸیں۔
02.محلہ کی سطح پر کمیٹیاں بناٸی جاٸیں اور سیاہ پرچم لہراۓ جاٸیں نیز آج کی میٹنگ میں جو بھی فیصلہ جات ہوتے ہیں محلے کی کمیٹیوں کے ذریعہ ان فیصلوں پر کمپین کی جاۓ۔
03.بیرونی فورس کو شہروں میں دھندناتے ہوۓ پھرنے دیا جاۓ اور دیہاتوں میں ان کا محاسبہ کیا جاۓ۔
04.دیہاتوں میں فورسز کو سڑکیں بلاک کر کے روکا جاۓ ۔
05.اگر شہر عوام کے لیے جیل ہیں تو دیہات فورسز کے لیے جیل ہوں گے۔
06.توجہ ساری اکتوبر کے بلات پر دی جاۓ ماہ اکتوبر کے بلات ہر محلے سے جلانے کو یقینی بنایا جاۓ۔
07.چارٹر آف ڈیمانڈ پر فوکس رکھا جاۓ۔اسی چارٹر آف ڈیمانڈ پر دیہاتوں میں کمپین تیز کی جاۓ اور عوامی ایکشن کمیٹیوں کی تشکیل کے ساتھ ساتھ پیپلز سرکلز۔پیپلز اسمبلیاں منعقد کی جاٸیں۔
08.تحریک کی کامیابی عوامی مباحثوں میں پناں ہے۔اس لیے عوامی مساٸل، عوامی تحریک ، حکمرانوں کے جبر و استحصال اور تحریک کی ضرورتوں اور فتح سے ہمکنار کرنے جیسے موضوعات کو عوامی بحثوں میں فروغ دیا جاۓ۔
علاوہ ازیں مرکزی سطح پر تحریکی پروگرام کو زیادہ ٹھوس جاندار اور ایڈوانس کیا جاۓ۔






Related News

ل24 اکتوبر حکومت کا قیام سعید اقبال

Spread the love پاکستان نے اپنے قیام کے ساتھ ہی ریاست جموں کشمیر پر قبضہRead More

The Untold Story of failed diplomacy in Kashmir. Hashir Majid

Spread the loveAll Respected Guest My Name is Hashir Majid I am a grade 11Read More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *