Main Menu

ھاری کانفرنس سانگھڑ تحریر: پرویز فتح ۔ لیڈز، برطانیہ

Spread the love

بارہ فروری کو سندھ دھرتی کے انتہائی پسماندہ، اور جاگیرداری کی شکنجے میں جکڑے ہوئے شہر سانگھڑ میں حسن عسکری ھاری مزدور کانفرنس کے انعقاد نے ملک بھر کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات، کسانوں اور مزدوروں کی سیاست کرنے والے سیاسی کارکنوں کے لیے یہ اُمید پیدا کر دی ہے، کہ ملک میں کسانوں، کھیت مزدوروں، ہاریوں اور صنعتی مزدوروں کو منظم کر کے ایک بار پھر ترقی پسند سیاست کو مضبوط بنادیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ یہ کانفرنس ایسے وقت منعقد ہوئی ہے، جب بائیں بازو کی بکھری ہوئی قوتوں کو یکجا کرنے کے لیے متعدد انضمام ہونے کے نعد وجود میں آنے والی عوامی ورکرز پارٹی چند ماہ بعد اپنی تیسری کانگریس کرنے جا رہی ہے۔ مزدور کسان اتحاد زندہ باد، حسن عسکری زندہ باد، جیڑا واہوے اوئی کھاوے، سب دکھوں کا علاج مزدور کسان راج، زرعی اصلاحات نافظ کرو، 25 ایکڑ فی خاندان سے زیادہ زمین ضبط کر کے مزارعوں ہاریوں میں مفت تقسیم کرو، بجلی ڈیزل کھاد بیج اور کیڑے مار ادویات میں رعایت دو، جاگیرداری ختم کیے بغیر جمہوریت قائم نہیں رہ سکتی، صوبائی خودمختاری کے بغیر وفاق نہیں چل سکتا، سوشلزم انسانیت کا روشن مستقبل جیسے نعروں سے گونجتی اِس کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر عوامی ورکرز پارٹی سانگھڑ، بالخصوص مقامی راہنما عبد القیوم لانڈر، سکینہ بتول، سعید بگٹی، خلیل بلوچ، وحید بگٹی، شبیر حسن مری، فاروق لغاری، فیض بڑدی ، کرشن کمار، انور خاتون، مینگھراج ، ای ڈی بڑدی، محبوب خاصخیلی، ریاض حسن شاہ، ذولفقار چنگیزی، لالا قادر سریوال مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے ایک طرف اِس کانفرنس کے ذریعے اپنے محبوب ہاری راہنما کامریڈ حسن عسکری کو تاریخ ساز ٹربیوٹ پیش کیا، تو دوسری طرف ترقی پسند سیاسی کارکنوں کو یہ راستہ دکھایا کہ کامریڈ چوہدری فتح محمد، ملک محمد علی بھارا، حسن عسکری جیسے ہونہاراور منجھے ہوئے کسان راہنماوں کے بچھڑ جانے کے بعد بھی کسان و ہاری تحریک کو منظم کیا جا سکتا ہے اور تحریک کو ایک نیا جذبہ دیا جا سکتا ہے۔ اُن کواپنی زندگیاں کسان تحریک کے لیے وقف کر دینے کا یہی سب سے بڑا ٹربیوٹ ہے۔

برِصغیر متحدہ ہندوستان میں قبائیلی اور جاگیر داری سماج کے خلاف کسانوں کی بغاوتوں اور سماجی ظلم، جبر اور استحصال کے خلاف کسانوں کی تحریکوں کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ کسانوں، مزارعوں اور ہاریوں کی ظالم راجاؤں، مہاراجاؤں، قبائیلی سرداروں اور جاگیرداروں کے خلاف منظم تحریکیں بھی صدیوں سے چلی آ رہی تھیں، البتہ اُن کا کوئی وسیع تر اور منظم ڈہانچہ نہ ہونے کی وجہ سے اُنہیں اُن بغاوتوں کو آسانی کے ساتھ کچل دیا جاتا تھا۔ سماجی ترقی کے ساتھ جب ریاستی ڈہانچے تشکیل پانے لگے تو آمدورفت اور کمیونیکیشن کے ذرائع نے ایسی تحریکوں کو یکجا کرنے کے راستے کھولے اور وقت کے ساتھ ساتھ ریاستوں اور صوبوں کی سطح پر کسانوں کی تنظیمیں منظم ہونے لگیں۔ بعد ازاں 11 اپریل 1936ء کو ملکی سطح پر آل انڈیا کسان سبھا کی بنیاد یو پی کے شہر لکھنؤ میں ایک متحدہ کنونشن کر کے رکھی گئی، جِس میں تمام علاقائی، ریاستی اور صوبائی کسان سبھاوں (کسان کمیٹیوں) کو اکٹھا کر کے اُن کی ایک متحدہ تحریک کی داغ بیل ڈالی گئی۔ کسانوں کی اس تحریک کا بنیادی مقصد مزارعوں اور کھیت مزدوروں  کے حقوق کی جدوجہد کو ایک متحدہ اور مضبوط آواز میں ڈھالنا اور اُس کو ملکی سطح پر جاری محنت کشوں کی جدوجہد کے ساتھ جوڑنا تھا۔ کسان سبھاؤں کے اُس مشترکہ کنونشن میں سوامی سجانند سرسوتے کو تنظیم کا مرکزی صدر اور اند پرواین جی رنگا کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ آل انڈیا کسان سبھا کے اُس کنوینشن میں کسانوں کے حقوق اور مطالبات کا عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے کے لیے 1 ستمبر 1936ء کو ملکی سطح پر یومِ کسان منانے کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریوں اور عالمی کسادبازاری سے برطانوی سامراج کی صنعت تباہ ہو چکی تھی، اور اسے اپنی تباہ شدہ صنعت کی تشکیل نو کے لیے نوآبادیاتی نظام اور محکوم ممالک کی لوٹ مار کو بڑھا کر ہی مکمل کرنا مقصود تھا۔ ٹیکسوں میں وسیع پیمانے پر اضافہ ہوا تو پنجاب میں آبیانے کی شرح میں اضافے پر کسانوں نے بڑے پیمانے پر بغاوتیں شروع کر دیں۔ لائل پور کے علاقے میں بھگت سنگھ کے والد سردار کشن سنگھ اور چچا اجیت سنگھ اور سورن سنگھ بھی اس تحریک کی رہنمائی کرنے والوں میں شامل تھے۔

دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں نے نوآبادیاتی نظام اور سامراجی غلبے کا نقشہ بدل کر رکھ دیا، اور دُنیا میں نوآبادیاتی نظام کی جگہ جدید نوآبادیاتی نظام کے خدوخال طے ہونے لگے۔ سامراجی ممالک کی جانب سے ترقی پزیر اور غریب ممالک کے وسائل کی لوُٹ کو جاری رکھنے کے لیے براہِ راست فوج کشی اور غلبوں کی بجائے ان ممالک کی معیشت اور سیاست کو مقامی استحصالی طبقات اور بیوروکریسی کی مدد سے کنٹرول کرنے کا عمل شروع ہو گیا۔  برِصغیر سمیت دُنیا کے بڑے اور مضبوط نوآزاد ممالک کو غیر فطری انداز میں تقسیم کر کے اُن کے درمیان تنازعات کھڑے کر دیئے گئے، اور مقامی وسائل کی ترقی کو روکنے کے لیے علاقائی جنگوں کو منظم طریقے سے فروغ دیا گیا، جو آج بھی اپنے پوری شدومد کے ساتھ جاری ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد 1948ء میں پاکستان کسان کمیٹی کے بنیاد رکھی گئی تو اُس نے ہندوستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے کسانوں کی آبادکاری و متبادل زمینوں کی الاٹمنٹ، جاگیرداروں، وڈھیروں اور قبائیلی سرداروں کی جانب سے غریب مزارعوں اور کھیت مزدوروں پر ظلم، جبر، استحصال اور اُن کے حقوق سلب کرنے کے خلاف بھرپُور جدوجہد کا آغاز کر دیا گیا۔ کسانوں کی اِس ابھرتی ہوئی تحریک میں سید مطلبی فریدآبادی، چوہدری فتح محمد، سردار شوکت علی، حیدر بخش جتوئی، راؤ مہروز اختر خان، شیر علی باچا، میاں رب نواز چاون، سید قسور گردیزی، سی آر اسلم، میاں شاہین شاہ اور بہت سے دوسرے کسان لیڈر اُبھر کر سامنے آئے اور اُنہوں نے ملکی سیاسی اور سماجی ڈہانچے میں ہلچل مچا دے۔ صنعت تو ملک میں نہ ہونے کے برابر تھی، اِس لیے مزدوروں کی تحریک ریلوے، ڈاکخانے اور ایک دو ٹیکسٹائل کے کارخانوں تک محدود تھی، البتہٰ کسانوں کی تحریک ہی ملکی ترقی پسندوں کے ہاتھ میں ایسا ہتھیار تھا جِسے منظم کر کے وہ ملکی سطح پر ایک بھر پُور انقلابی تحریک پیدا کر سکتے تھے۔ پاکستان کسان کمیٹی اُس وقت کیمونسٹ پارٹی پاکستان کے ساتھ منسلک تھی اور دانشوروں و ادیبوں کی انجمن ترقی پسند مصنفین، پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن، انجمن جمہوریت پسند خواتین اور ڈیموکریٹک اسٹوڈینٹس فیڈریسن بھی اُس کی اتحادی تنظیمیں تھیں۔ اِس لیے فیض احمد فیض، سردار مظہر علی خان، احمد راہی، قتیل شفائی، پروفیسر صفدر میر اور حمید اختر جیسے بیسیوں بڑے بڑے ادیب اور دانشور بھی کسانوں کے اجتماعات اور کانفرنسوں میں شرکت کرنے لگے اور اُن کی تربیت اور تنظیم سازی میں معاونت کرنے لگے۔ 1951ء تک ملک بھر میں کسان و ہاری کانفرنسوں کا وسیع تر سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا، جس نے ملک کے حاکم جاگیرداروں اور سول و ملٹری بیوروکریسی کی نیندیں حرام کر دیں۔ ادہر برِصغیر کے نامور مزدور راہنما مرزا محمد ابراہیم، فیض احمد فیض، سردار شوکت علی، دادا فیروزالدین منصور اور سی آر اسلم جیسے منجھے ہوئے ٹریڈ یونین راہنماوں کی قیادت میں ریلوے اور ڈاکخانے کی یونینوں کے ذریعے ہل چل مچا دی۔ ترقی پسند انقلابی تحریک شہروں کے ادیبوں اور دانشوروں کے حلقوں سے نکل کر دُور دراز دیہاتوں تک پہنچنے لگی تو حکمران طبقات کی نیندیں حرام ہو گئیں اور اُنہوں نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے راولپنڈی سازش کیس کا ڈرامہ رچایا اور ملک بھر سے ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور راہنماوں کو گرفتار کر لیا۔ پاکستان کیمونسٹ پارٹی، پاکستان کسان کمیٹی، پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن اور انجمن ترقی پسند مصنفین سمیت پارٹی کی تمام ذیلی تنظیموں کو خلافِ قانون قرار دیتے ہوئے اُن پر پابندی عائد کر دی گئی۔

ترقی پسندوں، مزدور، کسان و ہاری کارکنوں نے پہلے آزاد پاکستان پارٹی اور دیگر جماعتوں میں شرکت اختیار کر لی اور پھر 1957ء میں ڈھاکہ میں نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد رکھ کے ملک میں ایک وسیع تر ترقی پسند تحریک کی بنیاد رکھ دی۔ بعد ازاں 1963ء میں چوہدری فتح محمد، سردار شوکت علی، سی آر اسلم، سید مطلبی فرید آبادی، ملک محمد علی بھارا، راؤ مہروز اختر خان، میجر اسحاق محمد اور دیگر نے مل کر پاکستان کسان کمیٹی کو نئے سرے سے منظم کرنے کا آغاز کر دیا۔ اُنہوں نے شہر شہر اور گاؤں گاؤں جا کر پرانے کسان کارکنوں کو یکجا کیا اور ایک سال کے اندر پنجاب میں کسان کمیٹی، سندھ میں حیدر بخش جتوئی نے سندھ ہاری کمیٹی اور خیبر پختونخواہ کے ساتھیوں نے سرحد کسان جرگہ کے نام سے منظم تنظیمیں کھڑی کر دیں اور کسان کانفرنسوں کا وسیع تر سلسلہ شروع کر دیا۔ پنجاب بلا شُعبہ ان کسان کانفرنسوں کا مرکز بن کر اُبھرا اور اُنہوں نے چنی گوٹھ، ٹانڈہ، کبیروالہ، لودھراں، سرائے عالمگیر، قصّور، سبی، پشاور اور خانیوال کی کامیاب کسان کانفرنسوں کے بعد 1969ء میں سنتوش نگر مشرقی پاکستان اور 23 مارچ 1970ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تاریخ ساز کسان کانفرنس کر کے ملک کے سیاست کا نقشہ ہی بدل دیا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ان کسان کانفرنسوں کا فائدہ ذوالفقار علی بھٹو نے اُٹھایا، لیکن اِس کے باوجود اُن کسان کانفرنسوں نے دو لینڈ ریفارمز کی راہ ہموار کی اور جماعت اسلامی جیسی رُجعتی جماعت تک کو اپنے منشور میں زرعی اصلاحات کو شامل کرنا پڑا۔ ٹوبہ کسان کانفرنس کے بعد حکمرانوں نے ممتاز کسان راہنما چوہدری فتح محمد کو مسلسل جیل میں رکھنے کی کوشش جاری رکھی، حتیٰ کہ مسٹر بھٹو کی پیپلز پارٹی، جِس نے ٹوبہ کسان کانفرنس میں پارٹی کے طرف سے معراج خالد کو تقریر کے لیے بھیجا تھا، چھ ماہ کے لیے چوہدری فتح محمد کو نقصِ امنِ عامہ کے تحت جیل میں ڈالے رکھا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب حسن عسکری بھی کسان تحریک کا حصہ بن چکا تھا اور پنجاب میں کسان کانفرنسوں کو منظم کروانے میں سرگرم ہو چکا تھا۔ بعد ازاں حسن عسکری وہاڑی سے سانگھڑ منتقل ہو گئے۔

ڈکٹیٹر ضیاء کا سیاہ دور آیا تو اُس نے لینڈ ریفارمز کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کی، اور ملکی آئین کے تحت قائم عدالتی نظام کے برخلاف میں ایک شریعت ایپلیٹ کورٹ بنائی، جِس میں مولوی بٹھا کر لینڈ ریفارمز کو غیر اسلامی قرار دلوانے کا عمل شروع کر دیا تا کہ آئیندہ کے لیے لینڈ ریفامز کے راستے بند کر دیئے جائیں۔ 2010ء میں پارٹی کے صدر اور ممتاز قانون دان عابد حسن منٹو نے پارٹی کی جانب سے لینڈ ریفامز کے خلاف وفاقی شریعت ایپلیٹ کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا اور وہ مقدمہ آج تک ریاستی بے حسی اور عدالتی سردمہری کی نظر ہوا سرد خانوں میں سسکیاں لے رہا ہے، اور انصاف دینے والے اداروں پر ہنس رہا ہے۔

ضیاء دور میں سیاسی لوگوں کی پکڑ دھکڑ ہوئی تو پارٹی اور کسان کمیٹی کے تمام سرکردہ راہنماؤں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ چھ ماہ بعد رہائی ملی تو چوہدری فتح محمد، ملک محمد علی بھارا، حسن عسکری، اسحاق منگریو، سی آر اسلم، عابد حسن منٹو، میاں رب نواز چاون، رانا محمد اعظم، محمد علی سہیول، مختار چوہدری، غلام دستگیر محبوب اور دیگر نے پاکستان کسان کمیٹی کو مرکزی اور صوبائی سطح پر دوبارہ آرگنائز کیا اور کسان کانفرنسوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ، نارووال، شیخوپورہ، وہاڑی، جھنگ، کبیروالا، سانگھڑ، اڈا لاڑ ملتان، میں زبردست کسان کانفرنسیں منعقد کر کے ایک طرف بکھری ہوئی ترقی پسند قوتوں کو یکجا ہونے کی ترغیب دی تو دوسری طرف ملک پر مسلط ڈکٹیٹرشپ کے خلاف محنت کشوں کو متحرک کرنے کا فریضہ ادا کیا۔ 23 مارچ 2005ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں چوہدری فتح محمد کی ایکٹیو سیاسی زندگی کی شائد آخری کانفرنس تھی، جِس کے بعد کافی حد تک کسان تحریک پر جمود طاری رہا۔ بعد ازاں 2015ء میں فانوس گجر، حیدر زمان اخونذادہ، شہاب خٹک اور خیبر پختونخواہ کے دیگر انقلابی راہنماؤں نے مردان میں ایک بڑی کسان اور محنت کار کانفرنس منعقد کر کے توڑا۔ گذشتہ ہفتے سانگھڑ ہاری مزدور کانفرنس نے بلاشعبہ کسان تحریک کو نئی قوت عطا کی ہے۔ اُسی روز ٹوبہ تیک سنگھ سے نوجوان کسان راہنما محمد زبیر، جسے کامریڈ چوہدری فتح محمد کا سیاسی جانشین سمجھا جاتا ہے، نے سانگھڑ ہاری کانفرنس پر اپنے ردِعمل کا اظہار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی ورکرز پارٹی سانگھڑ کی طرف سے ہاری مزدور کانفرنس کا انعقاد بڑے عرصہ بعد خالصتآ محنت کش  طبقات کی مزاحمتی تحریک کو از سر نو منظم کرنے کی طرف بارش کا پہلا قطرہ ثابت ھو گی۔ جس طرح عوامی ورکرز پارٹی سانگھڑ نے نامور ہاری راہنما حسن عسکری کے مشن کو جاری رکھتے ھوئے جدوجہد کو از سر نو منظم کیا ھے، ہم اسکی تحسین کرتے ہیں، اور ہم عوامی ورکرز پارٹی سندھ بالخصوص عوامی ورکرز پارٹی سانگھڑ کے شکر گزار ھیں، جنکی سیاسی بصیرت کی وجہ سے ھم میں بھی یہ حوصلہ پیدا ھوا ھے کہ پاکستان کسان کمیٹی پنجاب اور عوامی ورکرز پارٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ بھی بہت جلد ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک بڑی اور تاریخی کسان کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی ورکرز پارٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ عہد کرتی ھے کہ حسن عسکری صاحب، کامریڈ چوہدری فتح محمد اور ملک محمد علی بھارا اور دیگر ساتھیوں کے قافلہ کو منزل کی طرف رواں دواں رکھنے کے لیئے بھر پور جدوجہد کرے گی۔

 سانگھڑ ہاری مزدور کانفرنس میں کسانوں، ہاریوں، مزدوروں، ادیبوں، دانشوروں اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس سے اظہارِ خیال کرنے والوں میں عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اختر حسین ایڈووکیٹ، تنظیمی سیکریٹری جاوید اختر، بخشل تھلو، پروفیسر امیر حمزہ ورک، پروفیسر میرحسن سریوال، ایڈووکیٹ محمد جمیل، سرائیکی وسیب کے فرحت عباس، دلاور عباس صدیقی، واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین کے زونل چیئرمین شیر محمد نظامانی، سندہ کے کسان سیکریٹری فیض کیریو، عوامی ورکرز پارٹی کراچی سے شفیع شیخ، خرم علی نئیر، بخش منگریو، نیشنل پارٹی کے رہنما تاج مری، چیمبر آف کامرس سانگھڑ کے نائب صدر حاجی یامین قریشی، راجن منگریو،  کسان رہنما عاشق شر، ھمدرد جانوری، محرم جانوری شامل تھے، جبکہ سکینہ بتول، میر حسن مری اور عظیم رونھجو نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے  کہا کہ آج ہاریوں کو کوئی بھی بنیادی حقوق میسر نہیں ہیں۔ ہاری اور مزدور طبقہ بد ترین ظلم، جبر اور استحصال کا شکار ہے اور پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے۔ اس ملک میں کوئی بھی زرعی پالیسی نہیں ہے۔ کھاد، ادویات اور بیج بلیک پر مہنگے داموں بیچے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ شدید معاشی بحران کی وجہ سے ہاری اور مزدور خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے باوجود سندھ حکومت نے ہاریوں کے لیے کوئی پالیسی نہیں بنائی۔ الیکشنوں میں جو نمائیندے مزدوروں اور کسانوں کے ووٹ سے منتخب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں، انہی لوگوں نے ہاری اور مزدور کو ان کے حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہاریوں کے حقوقِ کے نعرے روُلینگ الیٹ کلاس کے جاگیردار لگا رہے ہیں اور سب جانتے ہیں کہ وہ ڈرامے کر رہے ہیں۔ ہاری اور مزدور کو آج آزادی کے 75 برس گزرنے کے بعد بھی پینے کے صاف پانی، تعلیم، صحت جیسے بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہاری اور مزدور کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ وڈیرے اور سرمایہ دار کبھی بھی آپ کے حق کی بات نہیں کریں گے۔ اِس لیے انتخابات میں ہاری اور مزدور دوست پارٹیوں، اُن کے عوامی حقوق کے علم برداروں کو ووٹ دیں تاکہ وہ آپ کے مسائل حل کرانے کی کوشش کریں۔

ترقی پسند سیاست میں نظر آنے والا یہ اُبھار اِس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ پاکستان کی بکھری ہوئی ترقی پسند تحریک کو یکجا کرنے کے عمل نے انقلابی کارکنوں اور اُن کی قیادت میں سنجیدہ غوروفکر کرنے اور تحریک کے بنادیں گراس روٹ لیول تک منظم کرنے، بالخصوص ملک کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات، کسانوں اور مزدوروں کو منظم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ بائیں بازو کو یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے دانشور، طلباء اور یوتھ اُس وقت تک اُن کی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے جب تک بائیں بازو کی سیاست کی مضبوط جڑیں گراس روٹ لیول تک نہیں بنیں گیں اور ایسی  مضبوط بنیادیں ملک کے پسے ہوئے عوام، کسانوں اور مزدوروں کو منظم کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *