Main Menu

حاکم اور محکوم کی جنگ اور پی این پی ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ۔

Spread the love

سماجی۔ معاشی۔ سیاسی۔ ثقافتی تبدیلی کے متمنی اور ان عظیم تر مقاصد و آدرشوں کے حصول کیلئے مصروف جدوجہد باشعور۔ باضمیر۔ باغیرت سیاسی و انقلابی لوگو۔ دنیا بھر میں تمام مذاھب و ان گنت فرقوں کا تعلق تو محض انسانوں کی عقیدت مندی سے ہی ہے جبکہ معاشی۔ و ساہو کاری نظام میں دنیا بھر میں دو طبقات ہی پائے جاتے ہیں۔ ظالم و مظلوم۔ سرمایہ دار و مزدور۔ جاگیردار و ہاری۔ بالادست و زیردست۔ استحصالی ٹولہ و استحصال کا شکار طبقہ۔ بلکل ایسے ہی دنیا بھی دو طبقات میں بٹی ہوئی ہے۔ اور دنیا بھر کے افراد پر مشتمل ابتدائی یونٹ کی مثال بھی ایسے ہی ھیکہ ہر گاوں نظر دکھائ ایک ہی دیتا ہے جبکہ ہر گاوں میں سیاسی اثر و رسوخ و معاشی اعتبار سے دو گاوں ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ہر شہر میں بسنے والے شہری بڑے فخر سے دعویٰ کرتے ہیں کہ ھم اس شہر کے شہری ہیں لیکن ہر شہر کے اندر معاشی۔ سیاسی۔ سماجی طور پر دو شہر آباد ہوتے ہیں اور بین ایسے ہی ہر ملک کے اندر ایک بالائ طبقہ ہوتا ہے جو اس ملک و ریاست کے سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے اور دوسرا زیر دست طبقہ جو 24گھنٹے کی محنت ومشقت کےباوجود اپنے ہی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہوتا ہے۔ دراصل اس طبقاتی تقسیم و تفریق کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ دنیا بھر کی انسانوں کی تحریری شکل میں تاریخ دراصل طبقاتی کشمکش کی ہی تاریخ ہے۔ یہ دو متضاد طبقات کی اپنے اپنے حقوق کے حصول کی لڑائ ہے۔ بالائی طبقہ ہر صورت زیر دست طبقہ کو اپنے زیر نگیں رکھنے کا ہر حربہ اختیار کرتا ہے جبکہ زیر دست طبقہ بھی بالا دست طبقہ سے چھٹکارا حاصل کرنے کا خواہشمند ہونے کے باوجود۔ منتشر۔ پسماندہ۔ عقیدت مند۔ معاشی و سیاسی طور پر مجبور و بے بس ہوتا ہے۔ یوں وہ کسی بھی صورت بغاوت و انقلاب کیلئے تیار نہیں ہوتا ہے۔ حالانکہ اگر اسے دنیا بھر کی آزادی و انقلاب کی تحریکوں کا ادراک ہو اور عوامی طاقت کا اندازہ ہو تو وہ ایک لمحہ ضائع کیئے بغیر انقلابی عمل کا حصہ بنکر سیاسی۔ معاشی۔ سماجی۔ تبدیلیوں کیلئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں کا حصہ بنکر اپنا کلیدی کردار اداکرے۔ المیہ یہ ھیکہ پاکستان و پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر و گلگت بلتستان میں بائیں بازو کی سیاسی پارٹیوں نے سوائے جذباتی تقاریر کے عام عوام کی سرے سے سیاسی۔ نظریاتی۔ فکری۔ تربیت ہی نہیں کی ہے۔ جے۔ کے۔ پی۔ این۔ پی۔ ہی واحد لیننی۔ مارکسی۔ سوچ و فکر کی بنیاد پر 10اپریل 1985میں بیرسٹر قربان علی کی قیادت میں قائم کی گئ پارٹی ہے جس نے اپنے منشور میں ببانگ دہل لکھا کہ جموں کشمیر کے تینوں منقسم حصے ایک ہی طرع کی غلامی۔ پسماندگی۔ جہالت۔ سیاسی و سماجی اور معاشی غلامی کا شکار ہیں۔ اور بھارت و پاکستان کر ریاست پر قبضہ میں رتی برابر فرق نہیں ہے۔ اور دہلی و اسلام آباد کے حکمرانوں کو جموں کشمیر کے دو کروڑ عوام کی غلامی۔ دکھ درد مسائل۔ مصائب مشکلات۔ تکالیف۔ روزگار۔ کنٹرول لائن پر دونوں اطراف معصوم انسانوں کے آئے روز قتل عام سے کوئ سروکار نہیں ہے بلکہ دونوں ممالک کے جموں کشمیر کے معدنی وقدرتی۔ زمینی و افرادی وسائل کے استحصال سے گہرا مفادوابسطہ ہے۔ یوں جموں کشمیر کے عوام کو ماضی میں 74سالہ پیش کی گئ ان گنت جانی و مالی قربانیوں کیبعد آج پاکستانی حکمرانوں کی دوغلی پالیسیوں کو سمجھتے ہوئے عقل و ہوش کے ناخن لینے چایئے کہ بھارت و پاکستان کے حکمران سالہ سال سے مسلئہ کشمیر کا واویلہ کرتے کرتے دراصل ایک دوسرے کیخلاف پراکسی وار لڑ رہے ہیں جس لڑائ میں ایندھن تو جموں کشمیر کے عوام بن رہے ہیں جبکہ سیاسی و معاشی مفادات دہلی و اسلام آباد کے حکمرانوں اور دونوں اطراف کی جرنیل شاہی کے ہیں۔ ریاست جموں کشمیر کے اندرون ریاست و بیرونی دنیا میں مقیم عوام کو آج دوست و دشمن کی بخوبی پہچان کرنا ہو گی۔ اور سمجھنا ہو گا کہ پچھلے 74سالوں میں ھماری ریاست کے مسئلہ کو پیدا کرنے۔ ریاست کو تقسیم کرا نے۔ مذھبی بنیادوں پر انسانیت کا لہو بہانے میں اھم ترین کردار پاکستانی حکمرانوں کا ہی رہا ہے اور آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے جبکہ انکی غلطیوں۔ بیوقوفوں کا فایدہ ھمیشہ دہلی ے حکمرانوں نے حاصل کیا ہے۔ آج بھی جب 5اگست 2019کو دہلی سرکار نے آرٹیکل 270اور 35Aکو مکمل کٹ لگاتے ہوئے ریاست جموں کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا لیا تو پاکستان کے حکمران نیازی خان اورجرنیل باجوہ صاحب نے ٹرمپ کے حکم ی تعمیل کرتے ہوئے سر تسلیم خم کیا اور کہا کہ پاکستان کے 22کروڑ عوام جمعہ کی نماز کے بعد 5منٹ تک کھڑے ہو کر مودی کی موت و بھارت کی تباہی کیلئے بددعائیں دیں۔ شرم۔ شرم۔ انکو مگر نہیں آتی ہے۔ جموں کشمیر کے باغیرت۔ باشعور۔ آزادی پسند لوگو دنیا بھر کی قومی آزادیوں و انقلابات کی تحریکیں ھمارے لیئے سبق آموز ہیں کہ دنیا کی ہر قوم نے اپنے ہی زور بازو و جدوجہد سے آزادیاں حاصل کیں اور انقلابات برپا کیئے ہیں اسلیئے تاریخ کے اوراق سے سبق سیکھتے ہوئے اٹھو اور اپنے اوپر ہی تکیہ کرتے ہوئے ہر جابر۔ ظالم۔ غاصب۔ سے آزادی حاصل کرنے کیلئے ٹھان لو یقینا تبھی ہی ھم آذادی جیسے ثمر سے بازیاب ہو پائیں گے۔






Related News

ل24 اکتوبر حکومت کا قیام سعید اقبال

Spread the love پاکستان نے اپنے قیام کے ساتھ ہی ریاست جموں کشمیر پر قبضہRead More

The Untold Story of failed diplomacy in Kashmir. Hashir Majid

Spread the loveAll Respected Guest My Name is Hashir Majid I am a grade 11Read More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *