Main Menu

جی بی: قراقرم يونيورسٹی جنسی ہراسگی واقعہ کيخلاف اين ايس ايف اور اين ڈبليو ايف کا مظاہرہ، فی الفور ايکشن لينے کا مطالبہ

Spread the love

يہ پہلا واقعہ نہیں، آواز اٹھانے پر خواتين مبارکباد کی مستحق ہيں، خواتین ہر شعبے میں غیر محفوظ ہیں،صنفی مساوات کی تعلیم و تربیت کو لازمی قرار دیا جائے

سکالرشپ کے نام پر جنسی ہراسگی کے واقعے کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے، مقررين

پونچھ ٹائمز ويب ڈيسک

گلگت بلتستان ميں جامعہ قراقرم ميں پیش آنے والے مبینہ جسنی ہراساں کرنے کے واقعے کے خلاف نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور نیشنل ورکرز فرنٹ گلگت بلتستان نے گلگت پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

این ایس ایف گلگت بلتستان اور این ڈبلیو ایف گلگت بلتستان کے شعبہ نشر و اشاعت کی جانب سے جاری تفصيلات کے مطابق احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ قراقرم یونیورسٹی میں حالیہ پیش آنے والا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ خواتین تمام شعبہ ہائے زندگی میں غیر محفوظ ہیں۔ مقررين کا کہنا تھا کہ قراقرم یونیورسٹی میں سکالرشپ کے نام پر اس مبینہ جنسی ہراسگی کے واقعے کی فی الفور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

مقررین نے جنسی ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانے پر جامعہ کی طالبہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنسی ہراسانی کسی مخصوص علاقے، نسل یا زبان کا مسلہ نہیں بلکہ ایک عمومی سماجی مسلہ ہے جس کے حل کے لئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔

مظاہرين کے مندرجہ ذيل مطالبات تھے کہ

۔۱- قراقرم یونیورسٹی سمیت تمام کیمپسز اور کالجز میں فی الفور جنسی ہراسگی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے.

۔۲-  یونیورسٹی کے ہر ڈیپارٹمنٹ میں خواتین کوآرڈینیٹرز تعینات کئے جائیں۔

۔۳۔ تمام کیمپسز کو جدید سیکورٹی کيمروں سے مانیٹر کیا جائے۔

۔۴۔ جامعہ میں اومبڈس پرسن کا فوری قیام عمل میں لایا جائے جس ۔میں 70 فیصد نمائندگی خواتین کی ہو۔

۔۵۔  یونیورسٹی کے اندر غنڈہ گرد عناصر پر فوری پابندی عائد کر دی جائے۔

۔۔۶۔ چونکہ یہ تمام مسائل پدرشاہانہ نظام کی پیداوار ہیں, لہذا اس نظام کے خاتمے اور پائیدار حل کے لئے سکولوں اور کالجوں میں صنفی مساوات کی تعلیم و تربیت کو لازمی قرار دیا جائے۔






Related News

یا سین ملک کا مقدمہ اورعالمی عدالت انصاف ۔ بیرسٹر حمید باشانی

Spread the loveآج کل یاسین ملک کا مقدمہ عدالت انصاف میں لے جانے کے باتیںRead More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *