Main Menu

غیر مستحکم پاکستان کا عزم استحکام (اداریہ سنگرمیگزین

Spread the love


اب تو یہ ایک سیاسی چٹکلہ معلوم ہوتا ہے ، کیونکہ ہم گذشتہ کئی دہائیوں سے یہ سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ کبھی تو یہ ایک غیرحقیقت پسندانہ تجزیہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ محض پاکستان کے مخالفین کے اس ملک کے بارے میں خیالات نہیں بلکہ اس ملک کی حکومت ، فوج اور اسٹبلشمنٹ سمیت تمام سیاسی جماعتیں اس پر متفق ہیں کہ ان کا ملک عدم استحکام کا شکار ہے ۔جس کا نیا اظہار یا اعلاج پاکستانی فوج کی طرف سے ’ آپریشن عزم استحکام ‘ کے نام سے سامنے آیا ہے۔
نازرک صورتحال اور نازک دور سے گزرنی والی یہ ریاست سن اکہتر میں دو لخت اور اپنے ہمسایہ ملک ہندوستان کے ساتھ مسلسل جنگی حالت میں رہ کر اقتصادی طور پر کھوکلی ہوچکی ہے۔ مندرجہ بالا جملے میں بیان کردہ پاکستان کی حالت ’ پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے ‘ ، کا دورانیہ بظاہر طویل ہوچکا ہے ، مگر زیرک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو صاف پتا چلتا ہے کہ اپنے قیام سے لے کر اب تک یہ غیرفطری ریاست بتتدریج زوال کی طرف گامزن ہے۔ بلوچستان کا معاملہ تو پاکستان کی باقی اکائیوں سے یکسر مختلف ہے کیونکہ بلوچستان پر بزور طاقت قبضہ کیا گیا ہے ، مگر جو اکائیاں اپنی خوشی اور مرضی سے پاکستان کے ساتھ شامل ہوئی تھیں وہ بھی اب ایک سراب کے پیچھے دوڑتے دوڑتے مایوس ہوچکے ہیں۔
ریاست پاکستان کی خوش بختی یا طویل عمری کا راز یہ ہے کہ وہ اپنے بدترین حالات میں بھی مزید لائف لائن حاصل کرتا رہا ہے جیسا کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ کے نتیجے میں پاکستان کی لاٹری نکل آئی۔اس کی شروعات بھی ایسے ہی ہوا تھا کہ امریکا کو اپنے مفادات کے لیے خطے میں ایک کرایے کی فوج یا چوکیدار کی ضرورت تھی۔امریکا نے پاکستان کو گرفت میں لینے کے لیے بے پناہ دولت کا استعمال کیا لیکن تاریخ میں امریکا اور پاکستان کے رشتے منافقانہ حد تک نشیب و فراز کا شکار رہے۔ایک طرف پاکستان امریکا سے امداد حاصل کرتا رہا دوسری طرف امریکی مفادات کے خلاف آگے بڑھتا رہا۔ریاست امداد حاصل کرتی رہی جبکہ پاکستانی فوج کی ایماء پر سیاستدان ’ امریکا مخالف بیانیہ سازی ‘ کرتے رہے۔ چوہے بلی کا یہ کھیل آج تک جاری ہے۔
تاریخ کے صفحات کو پلٹیں آج پاکستان جو کچھ بھی ہے ، یہاں تک کہ ایٹمی پاور یہ سب امریکا کی مدد کے بغیر پاکستان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ 1955ء میں پاکستان کے وزیر اعظم حسین سہروردی نے پہلا ایٹمی توانائی پلانٹ قائم کرنے کی منظوری دی اور امریکا نے 350,000 امریکی ڈالر کی امداد پیش کی ۔ اگلے سال پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے یونائیٹڈ اسٹیٹس اٹامک انرجی کمیشن کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیا جس کے نتجیے میں پاکستان کو جوہری توانائی پر تحقیقی و تربیتی معاونت ملی۔1960 کو امریکا نے پاکستان کے سائنسدانوں لیے امریکن اداروں جیسا کہ ارگون نیشنل لیبارٹری ،اوک ریج نیشنل لیبارٹری اور لارنس لیور مور کے دروزاے کھول دیئے ، جن کا شمار دنیا کے بڑے تحقیقاتی اداروں میں ہوتا ہے اور یہ تینوں ادارے یونائیٹڈ اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ آف انرجی سے وابستہ ہیں۔
1965 میں اس طرف مزید پیشرفت ہوئی جب پاکستانی سائنسدان عبدالسلام نے ’ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹکنالوجی ‘ کے قیام کے لیے امریکا کو مدد کرنے کے لیے قائل کیا۔اس عمارت کو معروف امریکی ماہر تعمیرات ایڈورڈ ڈیورل اسٹون نے ڈیزائن کیا ، امریکی نیوکلیئر انجینئر پیٹر کارٹر نے ری ایکٹر کو ڈیزائن کیا، پاکستان کو پہلا ری ایکٹر امریکی مشین اینڈ فاؤنڈری پرائیوٹ کمپنی نے بنا کر دیا۔ اسی سال امریکا نے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کی خریداری میں بھی مدد کی۔
پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ کے نتیجے میں ، امریکا کو پاکستان کی فوجی امداد روکنی پڑی۔ 1965 سے لے کر اگلے پندرہ سال تک یہ مدد نہ ہونے کے برابر تھی ، اسے دوران پاکستان کے دو ٹکڑے ہوگئے اور پاکستان بحران در بحران سے گزرتا رہا۔ 1979 میں سی آئی اے کی طرف سے اس رپورٹ کے بعد کہ پاکستانی ایٹم بم بنا رہا ہے ، امریکی صدر جمی کارٹر نے خوراک کی مد میں دی جانے والی امداد کے علاوہ پاکستان کے تمام امداد روک دیئے۔ لیکن ایک مرتبہ پھر پاکستان پر قسمت کی دیوی مہربان ہوئی اور افغانستان میں سویت یونین کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے امریکا نے پاکستان کی ضرورت کے پیش نظر ملٹری امداد میں اضافہ کیا۔ لیکن امریکی قانون دان و سیاستدان لیری پریسلر نے امریکی سینٹ میں پریسلر ترمیم پیش کیا جس میں پاکستان کے امداد کو امریکی صدر کی اس یاد دہانی سے مشروط کیا گیا کہ پاکستان ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔ صدر جارج ھربرٹر واکر بش یہ یقین دہانی نہ کرسکے جس کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے لیے امداد بند ہوئی لیکن نائن الیون ، پاکستان کے لیے پھر ایک لکی ڈرا ثابت ہوا اور امریکا نے پاکستان پر دوبارہ ڈالرز برسانے شروع کیے۔
امریکا اور پاکستان کے اس رشتے کے درمیان خطے کے محکوم اقوام بالخصوص بلوچ اور پشتون مفادات کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔یہ ایک تسلیم شدہ سچ ہے کہ سویت یونین سے مقابلے کے لیے امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کی بھرپور مدد سے دنیا کے اس خطے میں ’ جہاد ‘ کے بیج بوئے گئے۔ اس سے شدت پسندی کی جو زرخیز فصل تیار ہوئی وہ آج پوری دنیا میں بٹ رہی ہے۔ ایسے ممالک جہاں شدت پسندی کا تصور محال تھا آج دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ اسی لیے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماء اس جنگ کو ڈالری جنگ کہتے ہیں جو پاکستان نے امریکی ڈالر حاصل کرنے کے لیے لڑی اس کا بھرپور فائدہ پاکستانی فوج اور اس کے جرنیلوں نے اٹھایا لیکن اس کے تمام تر نقصانات پشتون اور دیگر اقوام نے اٹھائے۔
ایسے میں 22 جون 2024 کو آپریشن عزم استحکام کے نام سے جس آپریشن کا اعلان کیا گیا ، یہ شروع ہونے سے پہلے ہی متنازعہ ہوچکا ہے۔ پہلی مرتبہ پاکستان کی وفاقی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف ، جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی بھی اس آپریشن کو مسترد کر رہی ہیں۔ اسلام آباد میں حکومتی اتحاد میں بھی اس آپریشن کے بارے میں ہم آہنگی نظر نہیں آرہی۔خود پاکستانی فوج بھی تذبذب کا شکار نظر آتی ہے کیونکہ اس آپریشن کے لیے اسے پہلی مرتبہ سے اپنی طاقت کے گڑھ پنجاب میں بھی حمایت کی کمی نظر آتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام کے بیچ جب شہباز شریف کی فارم پینتالیس کی سرکار ’ آئی ایم ایف‘ کی مدد سے ملک کی معاشی حالات یا زیادہ درست معنوں میں حکومتی و ریاستی اخراجات کے لیے پیسے بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ پاکستانی فوج نے ’ عزام استحکام کے نام سے ایک نئے آپریشن‘ کی فرمائش کی ہے۔
پاکستان کے نام نہاد مرکزی دھارے کے تجزیہ نگار اس معاملے میں منقسم نظر آتے ہیں، مگر بیشتر کے خیالات سے پتا چلتا ہے کہ وہ بھی نہیں سمجھ پا رہے کہ بلو چستان اور پشتونخوا میں پاکستانی فوج کی مسلسل آپریشنز کے بعد آخر ’ المزید‘ کا یہ مطالبہ کیا ہے۔ پی ٹی ایم ایک بات مسلسل دہراتی ہے کہ اس آپریشن کے نام پر پاکستانی فوج مزید پیسے اور مدد حاصل کرنا چاہتی ہے۔
پاکستانی فوج نے 1971 میں آپریشن فیئر پلے کیا تھا ، جو افغانستان پر سویت قبضے کے خلاف تھا اور 1989 میں آپریشن زلزلہ سویت یونین کے خلاف لڑنے والے نام نہاد مجاہدین کی مدد کے لیے تھا ، لیکن محض تین سال میں مجاہدین اور پاکستان کی جگری دوستی جانی دشمنی میں بدل گئی اور پاکستان نے 1992 میں ’آپریشن راہ راست ‘ کے معنی خیز نام سے افغانستان سے پاکستانی بندوبستی علاقوں میں پھیلنے والے مجاہدین کے خلاف آپریشن شروع کی۔ اس کے بعد آپریشنز کی ایک طویل فہرست ہے۔
آپریشن بدر (1993 ) ، آپریشن خیبر (1994) ، آپریشن جانباز (1995 ) ، آپریشن شیردل (1997 ) ، آپریشن زلزلہ دو (2000) ، آپریشن ضرب عضب (2014) ، آپریشن رد الفساد (2017 ) ، آپریشن خیبر چار (2017 ) اور آپریشن رد الفساد دو (2018 ) جیسے متعدد فوجی مہمات کے ذریعے بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ پشتونخوا پر لشکرکشی کی گئی۔ ناکامی کا ثبوت یہ ہے کہ آج پھر پاکستانی فوج ایک لارج اسکیل آپریشن کے لیے رائے عامہ ، سیاسی جماعتوں اور بین الاقوامی مدد چاہتی ہے۔ لیکن ، ان آپریشنز کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں پشتون بے گھر ہوئے، ہزاروں جانیں گئیں اور ہزاروں معذور ہوئے ان کا کوئی حساب کتاب نہیں، ان کے بارے میں کوئی پوچھتا نہیں ، یہ سوال بھی اپنی جگہ بڑے دائرے کو گھیرے ہوئے ہے کہ آخر زبردست فوجی مہمات ، وسائل اور پیسے جھونکنے کے باوجود پاکستانی فوج کیوں نام ہوتی ہے ؟۔
پاکستانی تجزیہ نگار اس سوال پر گہری خاموشی میں چلے جاتے ہیں یا مبہم اور غیرتسلی بخش جواب دیتے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ جنگ پاکستانی فوج کے لیے ہمیشہ سے ایک منافع بخش کاروبار رہا ہے۔’ ایک طبیب تھا ، جس نے پڑھ لکھ کر اپنے بیٹے کو اچھا ڈاکٹر بنایا۔ ایک دن طبیب کی طبیعت خراب ہوئی ، اس نے کلینک پر بیٹے کو بٹھایا اور کچھ دن گھر پر استراحت کی۔جب اس کی صحت بحال ہوئی اور دوبارہ اپنے کلینک جانے لگا تو اس نے پایا کہ اس کا ایک مستقل مریض اس کا کلینک نہیں آرہا۔ اس نے اپنے ڈاکٹر بیٹے سے پوچھا کہ فلاں مریض کا کیا ہوا جو مسلسل کلینک آتا تھا۔ ڈاکٹر بیٹے نے فخریہ لہجے میں کہا آپ گذشتہ 31 سالوں سے اس کا علاج کر رہے تھے لیکن اس کے پاؤں کا زخم ٹھیک ہی نہیں ہو رہا تھا ، دراصل زخم کے اندر ہڈی تھی ، جو آپ نے دیکھی ہی نہیں۔جو میں نے نکالی اور مرہم پٹی کی ، اس سے اس کا زخم ہمیشہ کے لیے ٹھیک ہوگیا۔ طبیب نے جواب دیا ، بیٹا میں بھی یہ جانتا تھا لیکن اگر میں 31 سال پہلے وہ ہڈی نکال دیتا تو آج تم امریکا میں پڑھ کر ڈاکٹر نہیں بنتے۔‘
یہی فلسفہ پاکستانی فوج نے اپنا رکھا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ شدت پسندی کے مکمل خاتمے ، ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کے بعد اس کی ریاست کے اندرونی اور بیرونی معاملات میں مداخلت کا جواز ہی نہیں رہے گا۔آئی ایم ایف سے جو پیسے آ رہے ہیں اس پر پاکستانی فوج کے جنرل رال ٹپکا رہے ہیں کیونکہ یہ وہ بڑی رقم ہے جس سے فوجی جرنیلز جزیرے اور پاپا جونز خریدتے رہے ہیں۔تازہ ترین خبر ہے کہ امریکا میں پاکستانی سفیر مسعود خان نے واشنگٹن کے ولسن سینٹر میں امریکی پالیسی سازوں ، اسکالرز ، دانشوروں اور کارپوریٹ رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی مخالفت اور قلع قمع کرنے کے لیے ’ آپریشن عزم استحکام ‘ کا آغاز کیا ہے اور اس کے لیے ہمیں جدترین چھوٹے ہتھیاروں اور مواصلاتی آلات کی ضرورت ہے۔
اب پتا نہیں کہ امریکا اس کا کیا ردعمل دے گا لیکن ایک ایسا ملک جو معاشی طور پر بیساکھیوں کے سہارے کھڑا ہے وہ مزید کتنی جنگیں لڑ سکے گا ؟ ، اپنے بل پر تو یقینا نہیں۔ لیکن ہمیں مکمل خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے گوکہ اب پاکستان کے لیے پشتونخوا میں آپریشنز کے نام پر بڑا خون خرابہ کرنا ممکن نہیں رہا اور نہ ہی وہ اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں بلکہ وہ مسلسل وضاحتیں پیش کر رہے ہیں کہ وہ ایسے آپریشنز نہیں کریں گے جس میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو۔
جیسے بھی ہو ، غیرمستحکم پاکستان میں آپریشن عدم استحکام محکوم اقوام کی جدوجہد پر اثرات مرتب کرئے گا۔گوکہ چین ابھی تک پاکستان سے دوستانہ ناراضگی کا اظہار کر رہا ہے لیکن یہ آپریشن اس کے بلین ڈالر سی پیک پروجیکٹس کے مستقبل کی بھی ضمانت ہے۔ بلوچستان میں بلوچ سرمچاروں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے پاکستان مغرب میں ایران کو دباؤ میں لانے کی مکمل کوشش کرئے گا جس کے لیے اسے چین کی مکمل حمایت اور تعاون حاصل ہوگی۔ایران کے اندورنی حالات اور حالیہ دہشت گردی کے واقعات ، اسے نہ چاہتے ہوئے بھی بڑے مفاہمت کی طرف سے دھکیل سکتے ہیں کیونکہ افغانستان کی موجودہ حکومت داعش سے خطرہ رکھنے کے باوجود ان نظریاتی جڑوں کو تقویت پہنچاتی ہے جس سے پاکستان اور ایران کی سالمیت کو خطرات ہیں۔
پاکستان کو بلوچ تحریک آزادی اور پشتون قوم دوستی کے ابھار کے سامنا ہے۔افغانستان کی امارات اسلامی اپنے استحکام اور تقویت کی کوشش کر رہی ہے لیکن وہاں پاکستانی زیرانتظام پشتونخوا کی عوام کے لیے ہمدردی اور پشتونخوا میں افغان وطن سے اعلانیہ محبت اور وابستگی کا اظہار ، کسی بھی لمحے ان بادل نخواستہ قائم کیے گئے تعلقات کو ایک نئی موڑ پر لے جاسکتے ہیں۔تحریک طالبان پاکستان ، یہ مانتی ہے کہ اس کے ’جہاد‘ کا محور پاکستانی پشتونخوا ہے جسے وہ پاکستان کی فوج کے چنگل سے نجات دلانا چاہتی ہے۔ ٹی ٹی پی جیسی تنظیمیں نظریات سے طاقت پکڑتی ہیں، نظریات جو طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں اور ان کے خلاف جنگیں اور آپریشنز کو بیشتر وقتی کامیابی ملتی رہی ہے۔افغانستان کی حکومت حتی الوسع خود کو اس جنگ سے لاتعلق رکھنے کی کوشش کرئے گی ، براہ راست تصادم نہیں چاہے گی لیکن ٹی ٹی پی ا دیگر کو افغانستان میں جو حمایت حاصل ہے اس کے مستقبل قریب میں خاتمے کا امکان نظر نہیں آتا کیونکہ وہ وہاں ریاستی سطح پر نہیں عوامی سطح پر بھی جڑیں رکھتی ہیں۔
پاکستان نے اپنے تیور یہ بنا رکھے ہیں کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے افغانستان اور ایران کی سرزمین پر بھی حملے کرئے گا۔ ایسے کسی بھی مہم جوئی کے جو نتائج نکلنے ہیں اس سے پاکستان کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔پاکستان کو اس کا بھی بخوبی اندازہ ہے اس لیے پاکستانی فوج ایک بڑی جنگ شروع کرنے سے پہلے بساط پر اپنے تمام مہرے اپنی مرضی کی پوزیشن پر رکھنا چاہتی ہے۔ اپنے مفاد کے حصول کے لیے پاکستانی حکام نے اپنی پالیسیوں کو ’ نظریاتی ، سماجی اور آپریشنل‘ مراحل میں بانٹ رکھی ہیں اور ان کے مطابق آپریشنل مرحلے سے پہلے انھوں نے نظریاتی اور سماجی مراحل پر کام شروع کیا ہے۔ ان مراحل میں وہ اپنا بیانیہ بنانے کی کوشش کریں گے ، لیکن جو کچھ نظر آرہا ہے اس میں آپریشن عزم استحکام کی کامیابی کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آتے اور پاکستان کے لیے وقت سکڑتا جا رہا ہے۔






Related News

غیر مستحکم پاکستان کا عزم استحکام (اداریہ سنگرمیگزین

Spread the loveاب تو یہ ایک سیاسی چٹکلہ معلوم ہوتا ہے ، کیونکہ ہم گذشتہRead More

تحريکِ لبيک مسئلہ نہيں بلکہ رياست کی دوغلی اور دہشت پسند پاليسی مسئلہ ہے؛ پونچھ ٹائمز اداريہ

Spread the loveپونچھ ٹائمز اداريہ پاکستانی حکومت نے تحريکِ لبيک پاکستان نامی مذہبی شدت پسندRead More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *